اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل حسین دہقان نے لبنانی نیوز چینل "المنار" کو انٹرویو دیتے ہوئے سعودی وزیر دفاع کے اس دھمکی کے جواب میں ـ "کہ ہم جنگ ایران کے اندر منتقل کریں گے" ـ کہا کہ "وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس فضائیہ ہے تو وہ سب کچھ کرسکتے ہیں، لیکن اگر انھوں نے کوئی حماقت کی تو ہم مکہ اور مدینہ کے سوا کوئی بھی علاقے کو محفوظ نہيں رہنے دیں گے اور ان کے لئے ان دو مقدس شہروں کے سوا کوئی بھی جائے امان نہیں چھوڑیں گے۔
بن سلمان نے حال ہی میں سعودی چینل العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران مسلمانوں کے قبلے تک پہنچنا چاہتا ہے اور ہم منتظر نہيں رہیں گے کہ ایران جنگ کو سعودی عرب کے اندر منتقل کردے بلکہ جنگ کو ایران کے اندر منتقل کریں گے۔
ایرانی وزیر دفاع نے کہا: سعودی عرب کے پاس صرف فضائیہ ہے اور سعودی حکمران سمجھتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس فضائیہ ہو تو وہ جو چاہے کرسکتا ہے لیکن میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کسی بھی قسم سے حماقت سے باز رہیں اور اگر انھوں نے کوئی حماقت کی تو ان کے لئے مکہ اور مدینہ کے سوا کوئی جائے امن باقی نہ رہے گی۔
انھوں نے بن سلمان کی ہرزہ سرائیوں کی تردید کرتے ہوئے کہا: ہم کسی بھی مسلم اور عربی ریاست پر قبضہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، وہ آج ایران کی تاریخی اور تہذیب یافتہ قوم کے سامنے آ کھڑے ہوئے ہیں لیکن وہ اس موضوع کے معنی سے ناواقف ہیں اور اس کی وجہ ان کا تکبر ہے۔
انھوں نے سعودی ـ اسرائیلی تعاون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ سعودیوں کی خفت و ذلت کی انتہا دیکھئے کہ وہ آج صہیونی نیتن یاہو کی چاپلوسی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تا اسرائیل کو ایران کے خلاف اقدام پر آمادہ کردیں۔
انھوں نے کہا: یہ کیا روش ہے جو سعودیوں نے اپنائی ہے؟ سعودی حکمران ہر اس قوم کے خلاف کیوں موقف اپناتی ہے جو وہابیت اور سلفیت کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتی؟ سعودی حکمران مختلف اقوام کی سرکوبی کے لئے ہتھیار اور مالی امداد کیوں فراہم کرتی ہے؟
............
110